ابوظہبی ،8؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) ابوظہبی کی ماحولیاتی ایجنسی کی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شیخہ سالم الظاھری نے اپنے ادارے کے آئیندہ منصوبوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے اس کے تحت پہلے محفوظ قرار دیئے جانے والے علاقوں کے رقبے میں آئیندہ دو برس کے دوران 40 فیصد توسیع ہوگی جبکہ فعال جینومکس سہولت کے ساتھ جدید ترین جین بنک (جنیاتی ذخیرہ) بھی بنایا جائے گا –
آکسفورڈ بزنس گروپ کے آن لائن براڈ کاسٹنگ چینل ، گلوبل پلیٹ فارم کو اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ہمار پاس پہلے ہی آبائی پودوں کی ایسی نرسریاں ہیں جو سالانہ چار سو پودے تیار کررہی ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی اس پیداوار کو سالانہ دس لاکھ پودوں کی پیداوار تک کر لیا جائے گا ۔
انہوں نے ابوظہبی کی طرف سے ایڈوانسڈ انوائرنمنٹ ریسرچ سنٹر کو 2024 تک بنا لیئے جانے سے متعلق بھی آگاہ کیا جوکہ بنیادی پائیداری چیلنجز کا حصہ ہے – اس گروپ نے ڈاکٹر شیخہ الظاھری کا یہ انٹرویو تب کیا تھا جب چند ہفتے قبل ابوظہبی نے اپنے پہلے ماحولیاتی آبزرویٹری مرکز کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ یہ آبزرویٹری ، متعدد گرین ایشوز جن میں پانی ، مٹی ، ہوا کا معیار بھی شامل ہے کو اپنی آٹھ نکاتی حکمت عملی کے تحت ڈیل کرے گی –
سیکریٹری جنرل ماحولیاتی ایجنسی نے امارت میں پلاسٹک کے ایک بار استعمال کی زیرغور پالیسی پر بھی روشنی ڈالی جبکہ ملک کے آبی وسائل سے مچھلیوں کے زیادہ شکار اور استعمال کے مسئلہ سے نمٹنے کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
انہوں نے بتایا کہ ماہی گیری کی پائیداری کیلئے 2030 تک کی حکمت عملی بنائی گئی ہے ، سمندروں میں مچھلیوں کے ذخائر کی مزید مصدقہ معلومات کیلئے جدید ترین ذرائع کا حصول بھی کیا جارہا ہے –
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جدید ترین وسائل اور اعلی معیار کی ٹیکنالوجی کے حصول سے ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں قابل قدر معاونت ملے گی ، توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں حیاتیات ، ایکوسسٹمز ، ماحولیاتی عوامل اور پائیداری کو مقامی اور عالمی سطح پر مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی –
اس انٹریو سے متعلق او بی جی کے ڈائریکٹر مارک ایندرے ڈی بلوئس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شیخہ نے لائسنس یافتگان کو ایک موقع نادر موقع میسر کیا ہے جس میں وہ ابوظہبی کے ماحولیاتی عزم سے متعلق مزید جان سکتے ہیں اور ماحولیات سے متعلق منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دلا سکتے ہیں –